خریداری اور سروسز
خراب چیز یا ناقص سروس
آپ یہ خود شروع کر سکتے ہیں۔ نیچے طریقہ دیا گیا ہے۔
ایسے معاملات کے لیے صارف عدالتیں (کنزیومر کورٹ) موجود ہیں اور آپ خود درخواست دے سکتے ہیں۔ پہلے بیچنے والے کو تحریری نوٹس دینا ضروری ہے تاکہ وہ مسئلہ حل کرے۔ اگر وہ نہ کرے تو آپ کنزیومر کورٹ جا سکتے ہیں۔
قانون
پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2005 (دوسرے صوبوں اور اسلام آباد میں بھی ایسے ہی قوانین ہیں)
کیا کریں
- 1
بیچنے والے کو مختصر تحریری نوٹس دیں: کیا خریدا، کب، کیا خرابی ہے اور آپ کیا چاہتے ہیں (مرمت، تبدیلی یا رقم کی واپسی)۔ 15 دن میں جواب مانگیں۔
- 2
نوٹس رجسٹری یا کورئیر یا ای میل سے بھیجیں اور رسید سنبھال کر رکھیں، یہ ثبوت ہے کہ نوٹس پہنچ گیا۔
- 3
15 دن میں حل نہ ہو تو اپنے ضلع کی کنزیومر کورٹ میں شکایت دائر کریں۔ دیر نہ کریں: شکایت مسئلہ پیدا ہونے کے 30 دن کے اندر دائر ہونی چاہیے۔
- 4
رسید، نوٹس اور تصاویر کی کاپیاں ساتھ لگائیں۔ عدالت رقم کی واپسی، تبدیلی اور ہرجانے کا حکم دے سکتی ہے۔
یہ کاغذات تیار رکھیں
- رسید، بل یا وارنٹی کارڈ
- نوٹس کی کاپی اور بھیجنے کا ثبوت
- مسئلے کی تصاویر، چیٹ یا ای میلز
- شناختی کارڈ کی کاپی
وکیل کب کریں
اگر رقم بڑی ہو، معاملہ بلڈر یا ہاؤسنگ اسکیم کا ہو، یا بیچنے والا وکیل کر لے تو وکیل کریں۔
- کتنا وقت لگتا ہے
- کنزیومر کورٹ میں عموماً چند مہینے
- خرچ
- کم۔ خود دائر کرنے پر فوٹو کاپی اور ڈاک کے سوا خرچ کم ہے۔
عمومی معلومات، قانونی مشورہ نہیں۔ 2026 میں عوامی ذرائع سے جانچا گیا۔ قوانین اور طریقۂ کار بدلتے رہتے ہیں اور اضلاع میں عملی طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔
