جائیداد، کرایہ اور رقم
چیک باؤنس
تیاری آپ خود کر سکتے ہیں، لیکن وکیل سے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اگر قرض کی واپسی یا کسی واجب الادا رقم کے لیے دیا گیا چیک بدنیتی سے باؤنس ہو تو یہ جرم ہے اور ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے۔ عدالتیں یہ بھی کہتی ہیں کہ فوجداری مقدمہ رقم وصولی کا ذریعہ نہیں: پیسے واپس لینے کے لیے چیک پر دیوانی دعویٰ وصولی اکثر بہتر راستہ ہے۔ وکیل بتا سکتا ہے کہ کون سا راستہ، یا دونوں، اختیار کریں۔
قانون
تعزیراتِ پاکستان، دفعہ 489-ایف؛ ضابطہ دیوانی، آرڈر 37 (دعویٰ وصولی)
کیا کریں
- 1
بینک سے ریٹرن میمو لیں جس پر چیک باؤنس ہونے کی وجہ لکھی ہو۔
- 2
اصل چیک محفوظ رکھیں۔ رسید کے بغیر کسی کو نہ دیں۔
- 3
ادائیگی کا تحریری مطالبہ بھیجیں اور اس کے پہنچنے کا ثبوت رکھیں۔
- 4
ایف آئی آر، دعویٰ وصولی یا دونوں کے بارے میں وکیل سے مشورہ کریں۔ چیک پر دعویٰ وصولی تین سال کے اندر دائر ہونا چاہیے۔
یہ کاغذات تیار رکھیں
- اصل چیک
- بینک کا ریٹرن میمو
- قرض یا سودے کا ثبوت (معاہدہ، چیٹ، ٹرانسفر)
- آپ کا تحریری مطالبہ اور اس کی رسید
عمومی معلومات، قانونی مشورہ نہیں۔ 2026 میں عوامی ذرائع سے جانچا گیا۔ قوانین اور طریقۂ کار بدلتے رہتے ہیں اور اضلاع میں عملی طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔
